جلسہ

آج سحردم میں نے بھی رک کر وہ جلسہ دیکھا

پکی سڑک کے ساتھ، ذخیرے میں، ٹوٹی سوکھی شاخوں کے

چھدرے چھدرے سائبانوں کے نیچے

شیشم کے گنجان درختوں کے آپس میں جڑے تنے، سب

اس جلسے میں کھڑے تھے!

ایک گزرتے جھونکے کی جھنکار ذخیرے میں لرزاں تھی

’’آس پاس کی کالی رسموں کے سب کھیت ہرے ہیں

اور یہ پانی تمہاری باری کا تھا

اب کے بادل دریاؤں پر جا کر برسے

ان سے تمہارا بھی توعہدنامہ تھا

اب کیا ہو گا؟۔۔۔

چلتے آروں کےآگے چرتے گرتے جسمو

پاتالوں میں گڑ جاؤ ورنہ‘‘

اس تیکھی حجت میں اتنی سچائی تھی

جثّے ان پیڑوں کے سب اک ساتھ ہلے غصّے میں ۔۔۔

اور میری آنکھوں میں پھر گئے دکھ اک ایسے خیال کے، جس کی ثقافت

جانے کب سے اپنا مسکن ڈھونڈ رہی ہے!

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s