اپنے دل میں ڈر۔۔۔

اپنے دل میں ڈر ہو تو یہ بادل کس کو لبھا سکتے ہیں

اپنے دل میں ڈر ہو تو سب رُتیں ڈراؤنی لگتی ہیں اوراپنی طرف ہی گردن

جھک جاتی ہے

یہ تو اپنا حوصلہ تھا

اتنے اندیشوں میں بھی

نظریں اپنی جانب نہیں اٹّھیں اور اس گھنگھور گھنے کہرے میں جا ڈوبی ہیں

اور اَب میری ساری دنیا اس کہرے میں نہائی ہوئی ہریاول کا حصہ ہے

میری خوشیاں بھی اور ڈر بھی

اور اسی رستے پر میں نے۔۔۔ لوہے کے حلقوں میں ۔۔۔

اک قیدی کو دیکھا

آہن چہرہ سپاہی کی جرسی کا رنگ اس قیدی کے رخ پر تھا

ہر اندیشہ تو اک کنڈی ہے جو دل کو اپنی جانب کھینچ کے رکھتی ہے اور وہ

آدمی بھی

کھچا ہوا تھا اپنے دل کے خوف کی جانب، جس کی کوئی رُت نہیں ہوتی

میں بھی اپنے اندیشوں کا قیدی ہوں، لیکن اس قیدی کے اندیشے تو

اک میرے سوا، سب کے ہیں

اک وہی اپنے اپنے دکھ کی کنڈی

جس کے کھچاؤ سے اک اک گردن اپنی جانب جھکی ہوئی ہے

ایسے میں اَب کون گھٹاؤں بھری اس صبحِ بہاراں کو دیکھے گا

جو ان بور لدے اندیشوں پر یوں جھکی ہوئی ہے آموں کے باغوں میں

مری روح کے سامنے

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s