اپنی بابت۔۔۔

اپنی بابت تو ہم تم یہ جانتے ہیں کہ ہماری منزلت اور ہمارے منصب

مٹی کے رشتے ہیں

لیکن، میں کہتا ہوں: یہ جو سارے ادارے، یہ جو ساری تنظیمیں اور تملیکیں ہیں

یہ سب جگہیں کتنی تکریموں والی ہیں

جو بھی قوت کے ان سرچشموں پر قوت حاصل کر لے

اس کے بس میں ہے ان دنوں میں وہ تقدیریں بھر دے

جن میں لاکھوں انسانوں کے ضمیروں کی خوشیاں مضمر ہیں

لیکن، اَب ان جگہوں پر جن لوگوں کے پنجے ہیں

کیسے ان کے ارادوں کے قبضے ان کی سانسوں پر کسے ہوئے ہیں

اور کتنے آسودہ ہیں وہ اپنے عزمِ ستم پر ۔۔۔

بندے، جانے وہ دن کب آئے گا

جب یہ لوگ بھی جانیں گے کہ سبھی یہ ان کے منصب مٹی کے رشتے ہیں

وہ دن جس کے تقدس کے آگے ہم نے تو ہمیشہ اپنے آپ کو بے قوت پایا ہے

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s