اپنی آنکھ پہ۔۔۔

اپنی آنکھ پہ پٹی باندھ کے دیکھو

اپنی اوٹ سے اپنے آپ کو دیکھو

اندھیارے میں سوچو

کس کے ٹھنڈے، مشفق، حکمت والے ہاتھ تھے جن میں

ٹھنڈی، تیز، کٹیلی دھار تھی دکھ کی

چرتی جلد سے گرتی انگارہ سی بوندیں

یہ اک سانس تو شاید۔۔۔

اس اک رکتی رستی سانس کے بعد تو شاید

میلی گیلی کافوری مٹی کا بچھونا۔۔۔

اس بچھونے سے میں اٹّھا

سدا جئیں وہ ٹھنڈے ہاتھ جنھوں نے پٹی باندھی

اب آنکھوں پر پٹی باندھ کے دیکھا، یہ دنیا کتنی اچھی ہے!

تنہا بیٹھ کے سوچا

اس اک اتنی اچھی دنیا میں بھی

کون ادھر کو میری جانب دیکھے گا

جب تک میری آنکھوں پر پٹی ہے!

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s