یہ موج تو تہہِ دریا کبھی رہی بھی نہ تھی

مجید امجد ۔ غزل نمبر 52
جو دِل نے کہہ دی ہے وہ بات ان کہی بھی نہ تھی
یہ موج تو تہہِ دریا کبھی رہی بھی نہ تھی
جھکیں جو سوچتی پلکیں تو میری دنیا کو
ڈبو گئی وہ ندی جو ابھی بہی بھی نہ تھی
سنی جو بات کوئی ان سنی تو یاد آیا
وہ دِل کہ جس کی کہانی کبھی کہی بھی نہ تھی
نگر نگر وہی آنکھیں، پس زماں، پسِ در
مری خطا کی سزا عمرِ گمرہی بھی نہ تھی
کسی کی روح تک اک فاصلہ خیال کا تھا
کبھی کبھی تو یہ دوری رہی سہی بھی نہ تھی
نشے کی رو میں یہ جھلکا ہے کیوں نشے کا شعور
اس آگ میں تو کوئی آبِ آگہی بھی نہ تھی
غموں کی راکھ سے امجد وہ غم طلوع ہوئے
جنھیں نصیب اک آہِ سحرگہی بھی نہ تھی
مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s