یادوں کا دیس

کیسے جاؤں، کیسے پہنچوں یادوں کے اس دیس

جہاں کبھی اک آنگن کی دیوار پہ چپکے سے

دودھ کا ایک کٹورا رکھ جاتے تھے میرے لیے

غیبی ہاتھ ۔۔۔ جنھیں مٹی کی تہوں نے ڈھانپ لیا

جہاں کبھی اک قبے دار مکاں میں شام ڈھلے

نیلے پیلے شیشوں والے صندوقوں کے پاس

میرے لیے آٹے کے کھلونے توے پہ تلتے تھے

اچھے ہاتھ ۔۔۔ جو مٹی کے کنگن میں گئے پتھرا

شاید ان دو قبروں کے اَب مٹ بھی چکے ہوں نشان

لیکن اس بجریلے پتھر پر اب بھی ہیں میرے ساتھ

وہ دو محافظ روحیں جن کے چار مقدس ہاتھ

ڈھال گئے ہیں انگاروں میں انگ انگ مرا

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s