ہیولیٰ

برگ و بر پر، بام و در پر، برف— برف —

ایک نگری، برف — برف —

زرد سورج، سیم گوں میداں، رُپہلی سیڑھیاں

سیڑھیوں کی موج اندرموج ڈھلوانوں پہ چہرے — چتر — چتر —

سیڑھیوں پر سو قمر قوس آئینوں کی اوٹ — اوٹ —

منتظر نظروں کی دنیا عکس — عکس —

کتنے رنگوں سے جو زیبِ دامنِ احساس تھے

بھر گئے تھے گل بداماں راستے

جانے کس کے واسطے—

ساز جاگے، پھول برسے، اِک نوا

اک صدا، جیسے سلگتی چاہتوں کے دیس سے آتی صدا

اک صدا، جیسے زمانوں کے اندھیروں میں صدا دیتی وفاؤں کی صدا

(اک صدا، جیسے مرے دل کی صدا!)

لے تھمی اور نغمہ گر کا پیکرِ بےجاں گرا

سیڑھیوں سے آسماں کی ٹوٹتی محراب تک

بکھرے پھولوں کی چٹختی پنکھڑیوں پر تیز قدموں کی دھمک

آہٹوں کے اس بھنور میں اک جھجکتی چاپ کی دھیمی جھنک

(میرے دِل کی دھڑکنوں کو روندنے والی کسک)

رات، بجھتی شمع، نیندوں کا غبار

برف کی زنجیر میں جکڑے ہوئے جھونکوں کی بزم

میں کہاں تھا کچھ بتا، اے دل کی لو پر ناچتی ناگفتہ نظم!

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s