ہوٹل میں

بادل گرجا ۔۔۔ گرے سنہری پردے دلوں، دریچوں پر۔۔۔

بند ہوئے دو گول پپوٹے، چونچ میں دب گئی گرم زبان

چھری چلی حلقوم پہ، تڑپا تپتے توے پہ تڑختا ماس

سج گئے میز پہ مے کے پیالے، بٹ گیا طشتوں میں پکوان

چھت پر بارش، نیچے اجلے کالر، گدلی انتڑیاں

ہنستے مکھ، ڈکراتی قدریں، بھوکی مایا کے سب مان

باہر ۔۔۔ ٹھنڈی رات کا گہرا کیچڑ ۔۔۔ درد بھرے آدرش

چلو یہاں سے ۔۔۔ ہمیں پکارے ننگی سوچوں کا رتھ بان

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s