کوئی رمزِ خرام، موجِ صبا

مجید امجد ۔ غزل نمبر 5
قاصدِ مست گام، موجِ صبا
کوئی رمزِ خرام، موجِ صبا
وادیِ برف کا کوئی سندیس
میرے اشکوں کے نام موجِ صبا
کوئی موجِ خیال میں بہتی
منزلوں کا پیام، موجِ صبا
سو سمٹتی مسافتوں کا طلسم!
تیری کروٹ کا نام، موجِ صبا
تیرے دامن کی خوشبوؤں میں ہیں گم
سو سہانے مقام، موجِ صبا
آتی پت جھڑ کے ساتھ لوٹتے وقت
اک بہاریں پیام، موجِ صبا
اِک نویدِ نگاہ، پیکِ حبیب
اک جوابِ سلام، موجِ صبا
مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s