کارِ خیر

ننگی موت کے بھینٹ ہوا جب بیس روپے کا دان

جڑے تڑے پنجر پر ڈال کے سرد سفید کفن

قبر میں جھونک دیے لوگوں نے اک دکھیا کے پران

اچھی تھی وہ اپاہج بڑھیا جس نے جیتے جی

بچے کچھے ٹکڑوں کے بدلے جنت کی جاگیر

امرت پیتی زندگیوں کے چرنوں پر رکھ دی

کیسے بھاگ اس ابھاگن کے تھے جس نے مر کر بھی

ایک سفید کفن کے بدلے رنگیں چہروں پر

کوثر کی اک اجلی موج کی چاندی برسا دی

اس کا جینا، اس کا مرنا، اس کے سارے روگ

صرف اس کارن تھے کہ کبھی کبھی ان شعلوں کی اوٹ

اپنی خوشیوں کو سنولا لیں کچھ دھن والے لوگ

میری روح کو ڈھانپ گیا اک زہر بھرا طوفان

ننگی موت کے بھینٹ ہوا جب بیس روپے کا دان

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s