وہ خوش دلی جو دلوں کو دلوں سے جوڑ گئی

مجید امجد ۔ غزل نمبر 51
بڑھی جو حد سے تو سارے طلسم توڑ گئی
وہ خوش دلی جو دلوں کو دلوں سے جوڑ گئی
ابد کی راہ پہ بےخواب دھڑکنوں کی دھمک
جو سو گئے انہیں بجھتے جُگوں میں چھوڑ گئی
یہ زندگی کی لگن ہے کہ رتجگوں کی ترنگ
جو جاگتے تھے انھی کو یہ دھن جھنجھوڑ گئی
وہ ایک ٹیس جسے تیرا نام یاد رہا
کبھی کبھی تو مرے دِل کا ساتھ چھوڑ گئی
رکا رکا ترے لب پرعجب سخن تھا کوئی
تری نگہ بھی جسے ناتمام چھوڑ گئی
فرازِ دل سے اترتی ہوئی ندی، امجد
جہاں جہاں تھا حسیں وادیوں کا موڑ، گئی
مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s