مسیحا

سدا لکھیں

انگلیاں یہ

لکھتی رہیں

انگلیاں یہ

کاغذ پر

رکی ہوئیں

آنکھیں یہ

کاغذ پر

جمی ہوئیں!

گہری سوچ

جذبِ عمق

آنکھوں سے

روح تلک

پھیلی اِک

دھیان دھنک

آنکھیں سرخ

چپ خودسوز

ڈورے سرخ

لرزاں، محو!

سامنے اک

پارۂ جاں

درد ہی درد

ٹیس، کراہ

بو، تلچھٹ

جرثومے

کوئی سبیل؟

کچھ بھی نہیں

کوئی افق؟

کچھ بھی نہیں

آنکھیں فکر

آنکھیں صدق

آنکھیں کشف

ایک رمق

اک یہ طریق

اک وہ اصول

یہ مشروب

وہ محلول

کچھ کیپسول

سطرِ شفا

حرفِ بقا

آنکھیں یہ

سدا جلیں

سدا جئیں

سکھ بانٹیں

انگلیاں یہ

سدا لکھیں

لکھتی رہیں

سطرِ شفا

حرفِ بقا

لکھتی رہیں

لکھتی رہیں

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s