لاہور

کوئی کچھ بھی کہے کہے، مجھے کیا

بات جو میرے دِل میں ہے، میں اگر

آج اپنی زباں پہ لا نہ سکا

کل، مرے بعد، تیری منڈلی پہ جب

آگ برسے گی ۔۔۔ کون بولے گا!

بات یہ ہے، عظیم شہر، تجھے۔۔۔

شاید اس بات کا گماں بھی نہ ہو

ایک دِن آئے گا ۔۔۔ خدا نہ کرے

کبھی وہ دن بھی آئے ۔۔۔ جب ترے برج

قَدَر انداز دشمنوں سے بھرے

آگ انڈیلیں گے تیری گلیوں پر

تیری گلیاں کہ جن میں بستے ہیں آج

لوگ، نیندوں میں تیرتے پیکر

لوگ ڈھلتی مسرتوں سے نڈھال

زنگ کے پھول، شاخِ آہن پر

کوئی دیکھے اگر تو شہرِ شہیر

جن سجیلی سلوں پہ کھینچی تھی

تو نے گلکار سلسلوں کی لکیر

ان کی جھڑتی تہوں میں دفن ہیں آج

پھول برساتی بجلیوں کے ضمیر!

دیکھتے دیکھتے بکھر بھی گئی

مٹتے کھنڈروں کو جیتے آنگنوں سے

جوڑنے والی آنسوؤں کی لڑی

میں نے اکثر سنی ہے تیری کراہ

کھوکھلے قہقہوں کی بھیڑ میں بھی!

یوں گری وقت کی کمان کی زہ

سب کٹیلے طلسم ٹوٹ گئے

رہ گئے ہم، سو اپنا حال ہے یہ

اتنی نازک ہیں الجھنیں اپنی

جیسے پنکھڑی میں دھاریوں کی گرہ

یاد بھی ہے کہ مٹنے والوں نے

تیری مٹی کو رکھ کے پلکوں پر

یہ قسم کھائی تھی کہ تیرے لیے

اسی دھرتی سے ہم، دھڑکتی ہوئی

زندگی کا خراج مانگیں گے!

اسی دھرتی پہ، آج شہرِ جمیل!

کتنی اونچی ہے، کتنی کڑیل ہے

تیری بے سنگ سرحدوں کی فصیل

جس کے گھیرے میں گھاٹیوں کی گھٹا

جس کی خندق سمندروں کی سبیل!

یہی بل کھاتی، جاگتی دیوار

جو دِلوں کی سلوں سے ڈھالی گئی

آج، جب اس کے کنگروں کی قطار

صفِ سوزاں ہے، ہم نہیں چونکے

کل جب اس کے سلگتے زخنوں کے پار

خون چھلکے گا، ہم نہیں ہوں گے

ہم نہیں ہوں گے، لیکن اے مرے دیس

ایک دن آئے گا، خدا نہ کرے

کھی وہ دِن بھی آئے، جب ترے برج

قدر انداز دشمنوں سے بھرے

تری گلیوں پہ آگ انڈیلیں گے

تری گلیاں کہ جن کے سایوں میں کل

لڑکھڑاتے مقدروں کے پرے

ٹوٹتی سیڑھیوں سے اتریں گے

وقت کی موج سے ابھرتی ہوئی

قوم کی وردیاں پہن لیں گے!

ہم بھی اے کاش دیکھ سکتے انہیں

کون ہوں گے وہ لوگ جن کے بدن

خود ہمارے لہو کی دیواریں

جن کے سینوں میں سنسناتے الاؤ

خود انھی کے شعور کی لپٹیں!

یوں تو کس کو خبر ہے کل کیا ہو

پھر بھی، اے شہرِ خوش قبا، تیرے

دوش پر ہے جس آفتاب کی ڈھال

جب یہ سورج بدست فردا ہو

جب قدم ظلمتوں کا پسپا ہو

یاد رکھنا کہ یہ رُتیں، فصلیں

یہ بہاریں جو آگ کی رو سے

زندگی کے گلاب کا رس لیں

رو گئی ہیں انہیں، کسے معلوم

کتنی بے عزم، زرد رو نسلیں

کتنے بے عزم، زرد رو پیکر

چند خوشیوں کا سوگ جن کے جتن

چند خوابوں کی گرد جن کے نگر

یہی ہم، جن کی ہر تڑپ سے ہے آج

سو شکن دشمنوں کے ماتھوں پر

فتح اس آتشیں شکن کی شکست

جو ترے دشمنوں کے ماتھوں پہ ہے

کتنی ان مٹ ہیں، کون جانتا ہے

یہ جو ریکھائیں ترے ہاتھوں پہ ہیں

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s