شاخِ چنار

یہ کیا دیکھتا ہوں

کھڑا سوچتا ہوں

اس اک لمحے کے چوکھٹے میں یہ منظر

اتارا ہے کس نے؟

چنارِ شرر برگ کی ایک ٹہنی

کس جابرِ برف پیکر کے پھیلے ہوئے منجمد بازوؤں سے

نکل کر۔۔۔ پھسل کر۔۔۔

فرازِ فضا میں، بڑی خود فروزی سے، لہرا رہی ہے

نجانے اسے ماگھ رُت کے سہانے سمے میں سموئے ہوئے نیلگوں آسماں سے

پکارا ہے کس نے؟

Richard Aldrige کی نظم کا ترجمہ

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s