سب کچھ بس اک نگاہِ کرم کا بہانہ تھا

مجید امجد ۔ غزل نمبر 7
کیا کہیے کیا حجابِ حیا کا فسانہ تھا!
سب کچھ بس اک نگاہِ کرم کا بہانہ تھا
دیکھا تو ہرتبسمِ لب والہانہ تھا
پرکھا تو ایک حیلۂ صنعت گرانہ تھا
دنیا، امیدِ دید کی دنیا تھی دیدنی
دیوار و در اداس تھے، موسم سہانا تھا
ہائے وہ ایک شام کہ جب مست، نَے بلب
میں جگنوؤں کے دیس میں تنہا روانہ تھا
یہ کون ادھر سے گزرا، میں سمجھا حضور تھے
اِک موڑ اور مڑ کے جو دیکھا، زمانہ تھا
اک چہرہ، اس پہ لاکھ سخن تاب رنگتیں
اے جرأتِ نگہ، تری قسمت میں کیا نہ تھا
ان آنسوؤں کی رو میں نہ تھی موتیوں کی کھیپ
ناداں سمندروں کی تہوں میں خزانہ تھا
اےغم، انیسِ دل، یہ تری دلنوازیاں
ہم کو تری خوشی کے لیے مسکرانا تھا
اک طرفہ کیفیت، نہ توجہ نہ بےرخی
میرے جنونِ دید کو یوں آزمانا تھا
ہائے وہ دھڑکنوں سے بھری ساعتیں مجید
میں ان کو دیکھتا تھا، کوئی دیکھتا نہ تھا
مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s