دو چیزیں

آنسو کیا ہے؟ قطرۂ آب — ذی جسم اور سیال

غم کیا شے ہے؟ دل کی آگ — جلتا جلتا کوئی خیال

کاہے کو ہم کریں تمہارا دل مجروح

مان لی ہم نے بات تمہاری

ایک چیز ہے جسم

ایک چیز ہے روح

جھانکو اپنی روح کے اندر — ہے کوئی ایسا تٹ

جہاں خلا کے خول میں ڈولیں جسموں کے جمگھٹ

ڈھونڈو اپنے جسم کے اندر — ہے کوئی ایسی نخ

جہاں دھوئیں کی دھند میں کھولیں — روحوں کے دوزخ

یہ سب سچ ہے، لیکن رکھیو — ایک اس بات کا دھیان

کس طرح من کی ہر کروٹ کو — شکتی دیتے ہیں پران

سوچو کس طرح دل سے اٹھ کر — ایک خیال کی لہر

دیکھتے دیکھتے بن جاتی ہے — صد ہنگامۂ دہر!

سچ پوچھو تو جیون اپنا — ایک عجیب طلسم

گُتھ مِتھ، رس بس، گھُل مِل جائیں ۔۔۔ جس میں روح اور جسم

Donald Babcock کی نظم کا ترجمہ

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s