دو دلوں کے درمیاں

شام کی بجھتی ہوئی لو، ایک ان بوجھی کسک

پانیوں، پگڈنڈیوں، پیڑوں پہ سونے کی ڈلک

جامنوں کے بور کی بھینی مہک میں دور تک

جسم اندر جسم سائے، لب بہ لب پرچھائیاں

انگ انگ انگڑائیاں

ہائے یہ مدھم سے شعلے اُس مقدس آگ کے

جس کی لپٹوں میں سدا سمٹے رہے، پھیلے رہے

تیرے ہونٹوں اور مرے ہونٹوں کے جلتے فاصلے

ساتھ چلتی سنگتوں کے سنگ بہتی دوریاں

دو دلوں کے درمیاں

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s