دنیا سب کچھ تیرا۔۔۔

سب کچھ تیرا، اے دنیا

دریا دریا بجتے ساز

نگری نگری موہن مُکھ

بام بام پر چاند

کرن کرن گلنار!

آسمانوں اور زمینوں کے سب روپ

سب کچھ تیرا — اے دنیا!

تیرے طاق پہ میں اک دیپ

تو صدیوں کے گارے میں اک گندھی ہوئی دیوار

میں اک پل کی راکھ

اک دھڑکن کی ہُوک

جل گئی عود کی شمع

گر گئی بےبس راکھ

رات کے پربت سے ٹکرا گئی خوشبو کی اک لہر

پھر وہی رنگ اور پھر وہی روپ

نگری نگری موہن مکھ

کرن کرن گلنار

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s