درونِ شہر

مجھ سے پوچھو، یہیں کہیں اس پھلواڑی میں کیسے کیسے پھول کھلے تھے

آج انھی پھولوں کی مقدس پنکھڑیوں پر ہیں کیچ کے دھبے

ان روحوں اور ان راہوں سے اڑتی ہوئی اس کیچ کے دھبے

مجھ سے پوچھو

یہیں کہیں ہے، اسی سنہرے شہر کے اندر

اینٹوں کی تہذیب کے سینے میں اک دلدل

گدلے، مگھم، میلے کچیلے دلوں کی دلدل

کڑوے زہرمیں لت پت رسمیں

میں نے جن سے وفا کی ریت نبھائی

میں نے جن کی خاطر

چرکے اپنے ضمیر پہ جھیلے

سکے اپنے دل پر داغے

پہیوں کے دندانوں میں دن کاٹے

سلوں کی دھج کو تج کے، دھجیاں اوڑھ کے

کال کی دھوپ میں کنکر رولے

کس سے پوچھوں، میری وفا کا یہی صلہ تھا؟

پیتل کے جبڑوں میں کھنکنے والی، کانچ کی آنکھوں میں مسکانے والی

یہی کسیلی پیلی نفرت ۔۔۔ میری وفا کا یہی صلہ تھا؟

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s