حضرت زینب

وہ قتل گاہ، وہ لاشے، وہ بے کسوں کے خیام

وہ شب، وہ سینۂ کونین میں غموں کے خیام

وہ رات جب تری آنکھوں کے سامنے لرزے

مرے ہوؤں کی صفوں میں ڈرے ہوؤں کے خیام

یہ کون جان سکے، تیرے دل پہ کیا گزری

لٹے جب آگ کی آندھی میں غمزدوں کے خیام

ستم کی رات کی کالی قنات کے پیچھے

بڑے ہی خیمۂ دل میں تھے عشرتوں کے خیام

تری ہی برقِ صدا کی کڑک سے کانپ گئے

بہ زیرِ چتر مطلا شہنشہوں کے خیام

جہاں پہ سایہ کناں ہے ترے شرف کی ردا

اکھڑ چکے ہیں ترے خیمہ افگنوں کے خیام

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s