تجھ پر تری نگاہ سے چھپ کر نگاہ کی

مجید امجد ۔ غزل نمبر 30
اک عمر دل کی گھات سے تجھ پر نگاہ کی
تجھ پر تری نگاہ سے چھپ کر نگاہ کی
روحوں میں جلتی آگ، خیالوں میں کھلتے پھول
ساری صداقتیں کسی کافر نگاہ کی
جب بھی غمِ زمانہ سے آنکھیں ہوئیں دوچار
منہ پھیر کر تبسمِ دل پر نگاہ کی
باگیں کھنچیں، مسافتیں کڑکیں، فرس رکے
ماضی کی رتھ سے کس نے پلٹ کر نگاہ کی
دونوں کا ربط ہے تری موجِ خرام سے
لغزش خیال کی ہو کہ ٹھوکر نگاہ کی
مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s