بھادوں

گدلی گدلی جھیل ہوا کی جس کے خنک پاتال میں ہم

سانس روک کے ڈھونڈ رہے ہیں جیون کے انمول خزانے، گھائل خوشیاں، چنچل غم

سب کچھ ایک اداس تھکن کے بندھن، کیا ماضی کیا حال

ایک اتھاہ لگن کی کڑیاں، سبز درخت اور کالے کھمبے، ٹھنڈے کنج اور جلتے جال

سامنے دیکھیں تو لوہے کی باڑ کے پار افق سے پرے

سوکھے، سرد، سیاہ بنوں کی چھدری چھدری چھاؤں میں جھلکیں دھبے آتی صبحوں کے

بھورے بادل کی سلوٹ میں پیلے پیتل کی ڈوری

دکھتی جیوٹ رکتی جولاں دل کی کل میں ایک کمانی وقت کے چلتے پہیے کی

کیا کرے کوئی یہی بہت ہے جاگتی ٹیس اک درد بھری

مدھم بھونکے کا اکتارا، کھلتے گھونگھٹ آرزوؤں کے، بھیگی پلکیں سوچوں کی

سدا رہے یہ سماں سہانا، رت یہ سلگتی سانسوں کی

پھیلتی اگنی میں بل کھاتی گیلی دھرتی، دھندلا امبر، کھلتی کونپل بھادوں کی

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s