بارکش

چیختے پہیے، پتھ پتھریلا، چلتے بجتے سُم

تپتے لہو کی رو سے بندھی ہوئی اک لوہے کی چٹان

بوجھ کھینچتے، چابک کھاتے جنور! ترا یہ جتن

کالی کھال کے نیچے گرم گٹھیلے ماس کا مان

لیکن تیری ابلتی آنکھیں، آگ بھری، پُرآب

سارا بوجھ اور سارا کشٹ ان آنکھوں کی تقدیر

لاکھوں گیانی، من میں ڈوب کے ڈھونڈیں جگ کے بھید

کوئی تری آنکھوں سے بھی دیکھے دنیا کی تصویر!

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s