ایک فوٹو

لے کر نیلم جڑے تھال میں، نیل کمل کے پھول

کس شردّھا سے کھڑا ہے تیرے چرنوں کے نزدیک

ٹھہری ٹھہری، گہری جھیل کا شیتل شیتل جل

پتلی، پیچاں بیلڑیوں کے جھرمٹ کے اوجھل

جھیل کنارے تو بیٹھی ہے، اپنے آپ میں گم

تیرے پاؤں تلے، پانی پر، نیلوفر کے پھول

جن پہ چھڑکنے آئی ہے البیلی رُتوں کے روپ

تیتریوں کے پروں کی پیلی چادر اوڑھ کے دھوپ

نیلی جھیل، سجیلے پھول، البیلی رُت اور تو

ایک تری یہ بھیجی ہوئی رنگیں تصویر اور میں

روشن کمرہ، جگمگ یادیں، نیر بہاتی چاہ

باہر کالی رات کی ساکت جھیل، سیاہ، اتھاہ

ایک کنارے جیون کی رتنار رُتوں کے سنگ

تیرا سہانا دیس، برستی برف، کھنکتے ساز

ایک کنارے امرت پیتے، جیتے جگوں کی اوٹ

میری آخری سانس کی دھیمی بےآواز آواز

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s