ایکٹریس کا کنٹریکٹ

مرا وجود مری زندگی کا بھید ہے، دیکھ

یہ ایک ہونٹ کے شعلے پہ برگِ گل سے خراش

یہ ایک جسم کے کندن میں گدگدی سے گداز

یہ ایک روح، بھنچے بازوؤں میں کھیلتی لہر

ذرا قریب تو آ، دیکھ، تیرے سامنے ہیں

یہ سرخ، رس بھرے لب جن کی اک جھلک کے لیے

کبھی قبیلوں کے دل جوشنوں میں دھڑکے تھے

جو تو کہے تو یہی ہونٹ، سرخ، رس بھرے ہونٹ

ترے لہو میں شگوفے کھلا بھی سکتے ہیں

قریب آ، یہ بدن، میری زندگی کا طلسم

تری نگاہ کی چنگاریوں کا پیاسا ہے

جو تو کہے تو یہی نرم، لہریا آنچل

یہی نقاب، مری چٹکیوں میں اٹکی ہوئی

یہی ردا، مری انگڑائیوں سے مسکی ہوئی

یہ آبشار ڈھلانوں سے گر بھی سکتی ہے

بس ایک شرط ۔۔۔ یہ گوہر سطور دستاویز

ذرا کوئی یہ وثیقہ رقم کرے تو سہی

اکائیوں کے ادھر جتنے دائرے ہوں گے

ادھر بھی اتنے ہی عکس ان برہنہ شعلوں کے

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s