ہوائی جہاز کو دیکھ کر

یہ تہذیب اور سائنس کی ترقی کا زمانہ ہے

رہے گا یوں بھلا کب تک درندوں کی طرح انساں

یہ علم و دانش و حکمت کا ادنیٰ سا کرشمہ ہے

ہوا میں لگ گیا اڑنے پرندوں کی طرح انسان

وہ دیکھو ہیں فضا میں مائل پرواز طیارے

گرجتے، گھومتے، گرتے، سنبھلتے اور چکراتے

فضائے آسماں کی سیر کرنے والے سیارے

وہ دیکھو جا رہے ہیں گنگناتے، گونجتے، گاتے

اُدھر وہ خوش نصیب اور صاحبِ اقبال انسان ہیں

جنھیں بخشی گئی اِن برق پازوں کی عناں گیری

اُدھر وہ ذوقِ علم و فن سے مالامال انسان ہیں

جنھیں سونپی گئی دنیائے حکمت کی جہانگیری

اِدھر ہم لوگ ہیں کیفیتِ فکر و نظر جن کی

جہاں میں قوتِ پرواز سے محروم رہتی ہے

اِدھر ہم لوگ ہیں دنیا میں جن کی مضمحل ہستی

حیاتِ جاوداں کے راز سے محروم رہتی ہے

اگر یہ آرزو انساں کے دل میں جلوہ گر ہو گی

کہ چھن جائیں نہ عیشِ سرمدی کی نزہتیں اس سے

تو اس کی زندگی تابندہ تر پائندہ تر ہو گی

فقط سعیِ مسلسل سے فقط ذوقِ تجسس سے

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s