گر اس جہان میں جینا ہے

نہ تاجِ سر کو تو بیچ اور نہ تو سریر کو بیچ

گر اس جہان میں جینا ہے تو ضمیر کو بیچ

حیا کو اپنی نگاہوں سے حکمِ رخصت دے

زباں کو زہر ملے شہد کی حلاوت دے

فریبِ سجدہ سے اپنی جبیں کو واقف کر

ریا کے آنسوؤں سے آستیں کو واقف کر

ہے تیرے دل میں جو چنگاری اس کا نام نہ لے

خودی کا رتبۂ خودداری! اس کا نام نہ لے

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s