کہاں؟

موت کی گفتگو نہ کر اے دوست

آہ یہ آرزو نہ کر اے دوست

جب تلک سانس کی روانی ہے

تیرے جیون کی رُت سہانی ہے

جب تلک دل کے داغ روشن ہیں

شش جہت میں چراغ روشن ہیں

دوست! جب تک ترا حریمِ نگاہ

دے رہا ہے تجلیوں کو پناہ

زندگی جام ہے محبت کا

زندگی نام ہے محبت کا

ہم نشیں، کس قدر قریب ہیں ہم

زندگی ہے تو خوش نصیب ہیں ہم

دل سے دل کی طرب نوازی ہے

روح سے روح محوِ بازی ہے

آنکھیں آنکھوں میں مے انڈیلتی ہیں

انگلیاں گیسوؤں سے کھیلتی ہیں

شانے سے شانہ بھڑ رہا ہے یہاں

نغمے سے نغمہ چھڑ رہا ہے یہاں

جو بھی ارماں دلِ حیات میں ہے

آج تو دامِ ممکنات میں ہے

کل نہ معلوم کیا سے کیا ہو جائے

کل کا مفہوم کیا سے کیا ہو جائے

الجھے الجھے اجل کے دھارے سے

جا کے ٹکرائیں کس کنارے سے

کس نشیمن میں، کس ٹھکانے، کہاں

اپنی منزل ہو پھر نہ جانے کہاں

(15-19-1940)

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s