پھر کسی کو چاہنے کی آرزو میں گھومیے

مجید امجد ۔ غزل نمبر 75
چاندنی میں سایہ ہائے کاخ و کو میں گھومیے
پھر کسی کو چاہنے کی آرزو میں گھومیے
شاید اک بھولی تمنا، مٹتے مٹتے جی اٹھے
اور ابھی اس جلوہ زارِ رنگ و بو میں گھومیے
روح کے دربستہ سناٹوں کو لے کر اپنے ساتھ
ہمہماتی محفلوں کی ہا و ہو میں گھومیے
کیا خبر، کس موڑ پر مہجور یادیں آ ملیں
گھومتی راہوں پہ، گردِ آرزو میں گھومیے
زندگی کی راحتیں ملتی نہیں، ملتی نہیں
زندگی کا زہر پی کر جستجو میں گھومیے
کنجِ دوراں کو نئے اک زاویے سے دیکھیے
جن خلاؤں میں نرالے چاند گھومیں، گھومیے
مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s