وقت کی لامنتہی زنجیر کی کڑیاں تمام

مجید امجد ۔ غزل نمبر 50
کیا گریباں چاک صبح اور کیا پریشاں زلف شام
وقت کی لامنتہی زنجیر کی کڑیاں تمام
دیکھیے تنکے کی ناؤ کب کنارے جا لگے
موج ہے دہشت خروش اور سیل ہے وحشت خرام
شمع کے دامن میں شعلہ، شمع کے قدموں میں راکھ
اور ہو جاتا ہے ہر منزل پہ پروانے کا نام
زیست کی صہبا کی رو تھمتی نہیں، تھمتی نہیں!
ٹوٹتے رہتے ہیں نشّے، پھوٹتے رہتے ہیں جام
مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s