مطرب، کوئی ترانہ بیادِ بہار چھیڑ

مجید امجد ۔ غزل نمبر 58
آ، سازِ گلستاں کو بہ مضرابِ خار چھیڑ
مطرب، کوئی ترانہ بیادِ بہار چھیڑ
سوئے ہوئے سکوتِ چمن کو ذرا جگا
کچھ تو نواطرازِ غمِ روزگار چھیڑ
کل یہ جگہ تھی وادیِ نکہت، رباب اٹھا
کل یاں ہجومِ گل تھا، سرودِ بہار چھیڑ
قصہ کوئی بہ ماتمِ جام و سبو سنا
نغمہ کوئی بہ تعزیتِ سبزہ زار چھیڑ
کچھ بھی نہ ہو، خزاں تو ہے، اک راگنی الاپ
ہر خس ہے ایک سازِ نوا درکنار، چھیڑ
شاید پلٹ کے آ نہ سکے اب بہار، گا
پژمردہ شاخسار پہ جھک کر ستار چھیڑ
مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s