مسافر

گزر گاہِ جہاں پر — ہم مسافر!

شکستہ دل، شکستہ دم، مسافر

عجب کچھ زندگانی کا سفر ہے

مسافر کا نہیں محرم مسافر

گلے ملتی ہے رو رو کر گلوں سے

کہ اس گلشن میں ہے شبنم مسافر

کٹھن ہے عشق کی منزل کٹھن ہے

چلے ہیں اس روش پر کم مسافر

ابد اک موڑ تیرے راستے کا

تو سیلِ شوق ہے، مت تھم مسافر!

گلہ کیوں شومیِ قسمت کا امجد؟

کرے کیوں فکرِ بیش و کم مسافر

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s