محرومِ ازل

عرصۂ کونین میں کچھ بھی نہیں میرے لیے

خاک ہیں فرشِ زمیں عرشِ بریں میرے لیے

اک جہاں کے واسطے ہے اک جہانِ انبساط

اور ہے اشکوں میں وبی آستیں میرے لیے

دوسروں کے واسطے تاج و سریر و آستاں

بندۂ مجبور کی عاجز جبیں میرے لیے

رات بھر دورِ شرابِ ارغواں ان کے لیے

صبح کو محفل کے خالی ساتگیں میرے لیے

اس خیالِ خام کو رہنے بھی دے اخترشناس

آسماں کی وسعتوں میں کچھ نہیں میرے لیے

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s