محبوبِ خدا سے

نوبہارِ گلستانِ معرفت

یعنی اے روح و روانِ معرفت

تیرے دل میں جلوۂ ربِ جمیل

تیری محفل میں سرودِ جبرئیل

اہتمام و اہتزازِ کائنات

تیری اک ادنیٰ نگاہِ التفات

قرب یابِ درگہِ یزداں ہے تو

ساقیِ خُم خانۂ عرفاں ہے تو

جھک رہا ہے تیرے در پر آسماں

چومتا ہے تیرے قدموں کو جہاں

ترے دم سے دل کی کلیاں کھل گئیں

بدنصیبوں کو مرادیں مل گئیں

تیری چوکھٹ پر جھکی جس کی جبیں

ہو گیا اس کے جہاں زیرِ نگیں

میں سمجھتا ہوں کہ تیری خاکِپا

کیمیا ہے کیمیا ہے کیمیا

مجھ پہ گر تو لطف فرمائی کرے

بخت میرا نازِ دارائی کرے

میں بھی ہوں اک بندۂ عصیاں شعار

کشتۂ جور و جفائے روزگار

میں بھی تیرا بستۂ فتراک ہوں

کس قدرغمگین ہوں غمناک ہوں

میں زمانے بھر سے ٹھکرایا گیا

میں ہر اک محفل سے اٹھوایا گیا

درگہِ عالم سے دھتکارا ہوا

بخت اور تقدیر کا مارا ہوا

اب ترے دربار میں آیا ہوں میں

دل میں لاکھوں حسرتیں لایا ہوں میں

تجھ کو میری بےکسی کا واسطہ

اپنی شانِ خسروی کا واسطہ

مر رہا ہوں، زندگی کا جام دے

رحمتِ جاوید کا پیغام دے

اب زمانے میں مرا کوئی نہیں

آسرا تیرے سوا کوئی نہیں

اِک فقط درد آشنا تو ہی تو ہے

میرے دل کا مدعا تو ہی تو ہے

جب ترے دربا رمیں آتا ہوں میں

جب تری سرکار میں آتا ہوں میں

عظمتِ مفقود کو پاتا ہوں میں

منزلِ مقصود کو پاتا ہوں میں

تیرے آگے ہاتھ پھیلاتا ہوں میں

جھولیاں بھر بھر کے لے جاتا ہوں میں

زندگی کی زندگی تو ہی تو ہے

روح کی تابندگی تو ہی تو ہے

میرے دل کو مہبطِ انوار کر

مجھ کو بھی بینندۂ اسرار کر

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s