قبلا ئے خاں

ظانادو میں قبلا خاں کے رنگ محل کے سائے

لرزیں اس دیوانی ندی پر جس کی مقدس موجیں

گہری اور اتھاہ دراڑوں کے سینوں کو ڈستی

گھور اندھیروں کے ساگر میں بسا لیں اپنی بستی

دوردور تک سونا اگلتی دھرتی کا پھیلاؤ

جس کے چاروں اور فصیلیں، گنبد اور منارے

باغ — جو ہنستی آب جوؤں کی چنچلتا سے چمکیں

بوجھل بوجھل خوشبوؤں سے لدے پھندے اشجار

بوڑھے جنگل — جیسے پرانے پہاڑوں کے ہمزاد

کہیں کہیں جن کی وسعت میں

دھوپ میں لپٹے سبزہ زار

اوہ! وہ دیکھو

گھنے گھنیرے پیڑوں کے اس پار

سبز چٹانوں کے سینوں میں گہرے بھیانک غار

ہیبت ناک مقام

رسی بسی پاکیزگیوں کا ایک فسونِ دوام

جیسے ڈھلتے چاند کی پیلی چھایا میں گھل جائیں

برہا کی اگنی میں جل مٹنے والی اک دیواداسی کی پرچھائیں

یہی وہ غار، یہی وہ گھاؤ

جس کی تھاہ سے اچھلے کھولے

ایک ابلتے چشمے کی اَن تھک آوازوں کا وہ الاؤ

جو دھرتی کی ہانپتی چھاتی میں بےکل سانسوں کی مانند

تڑپے اور تڑپتا جائے

جس سے جھم جھم برسیں

جلتی چٹانوں کے سیال انگارے

جیسے تپتے توے پر بھجتے دانوں کی کلپاہٹ

انھی اچھلتی چٹانوں کے جھرمٹ سے ابھر کر ڈوبے

وہی مقدس دریا جس کی موجیں

گہری اور اتھاہ دراڑوں کے سینوں کو ڈستی

گھور اندھیروں کے ساگر میں بسا لیں اپنی بستی

یہی ہے وہ ہنگامۂ صوتِ سنگ و فرشِ دریا

جس کے روپ میں قبلا خاں کے کانوں سے ٹکرائیں

گزرے بلوانوں کی صدائیں

جنگ کے نقارے کی دھم دھم

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s