عقدۂ ہستی

خشک ندّی کے کنارے، ریل کی پٹڑی کے پاس

کھل رہا ہے دشت میں اک لالۂ آتش لباس

اس طرف کمھلائی دوب اور اس طرف سوکھا ببول

پل رہا ہے جن کی بےاحساس گودی میں یہ پھول

کھیلتا ہے گرچہ انگاروں سے اس کا ہر نفس

مٹ رہا ہے خار و خس میں ہم نشینِ خار و خس

درد کی فطرت کا دم اس طرح گھٹتا دیکھ کر

دیکھ کر اس سوز کی دولت کو لٹتا دیکھ کر

مجھ کو نظمِ زیست کی بربادیاں یاد آ گئیں

میری آنکھوں میں برستی بدلیاں لہرا گئیں

اس پر اک ساتھی نے حیرت سے کہا: ’’کیوں کیا ہوا؟

او مسافر بھائی، تو کیوں رو پڑا؟ کیوں، کیا ہوا؟‘‘

ایسے لمحے میں حقیقت کو چھپانے کے لیے

دور کیوں جائے بھلا انساں بہانے کے لیے

مسکرا کر میں نے جھٹ اس سے کہا: ’’کچھ بھی نہیں

یونہی بیٹھے بیٹھے آنکھیں میری دھندلا سی گئیں ‘‘

عقدۂ ہستی کو سلجھایا ہے کس نے اور کب؟

آہ اس دنیا میں دل روتے ہیں اور ہنستے ہیں لب!

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s