صبحِ نو

اے دوست! ہو نوید کہ پت جھڑ کی رُت گئی

چٹکی ہے میرے باغ میں پہلی نئی کلی

پھر جاگ اٹھی ہیں راگنیاں آبشار کی

پھر جھومتی ہیں تازگیاں سبزہ زار کی

پھر بس رہا ہے اک نیا عالم خمار کا

پھر آ رہا ہے لوٹ کے موسم بہار کا

اے دوست! اس سے بڑھ کے نہیں کچھ بھی میرے پاس

یہ پہلا پھول بھیج رہا ہوں میں تیرے پاس

کومل سا، مسکراتا ہوا، مشکبار پھول

پروردگارِ عشق کا یہ بےزباں رسول

آتا ہے اک پیام رسانی کے واسطے

بسرے دنوں کی یاددہانی کے واسطے

اے دوست، ایک پھول کی نکہت ہے زندگی

اے دوست، ایک سانس کی مہلت ہے زندگی

وہ دیکھ پَو پھٹی، کٹی رات اضطراب کی

اچھلی خطِ افق سے صراحی شراب کی

آ آ یہ صبح نو ہے غنیمت، مرے حیب!

آیا ہے پھر بہار کا موسم! زہے نصیب!

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s