سازِ فقیرانہ

گلوں کی سیج ہے کیا، مخملیں بچھونا کیا

نہ مل کے خاک میں گر خاک ہوں تو سونا کیا

فقیر ہیں دو، فقیرانہ ساز رکھتے ہیں

ہمارا ہنسنا ہے کیا اور ہمارا رونا کیا

ہمیں زمانے کی ان بیکرانیوں سے کام!

زمانے بھر سے ہے کم دل کا ایک کونا کیا

نظامِ دہر کو تیورا کے کس لیے دیکھیں

جو خود ہی ڈوب رہا ہو اسے ڈبونا کیا

بساطِ سیل پہ قصرِ حباب کی تعمیر

یہ زندگی ہے تو پھر ہونا کیا، نہ ہونا کیا

نہ رو کہ ہیں ترے ہی اشک ماہ و مہر امجد

جہاں کو رکھنا ہے تاریک اگر تو رونا کیا

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s