ریل کا سفر

کراچی کو جاتی ہوئی ڈاک گاڑی

دھوئیں کے سمندر میں تیراک گاڑی

مسافت کو یوں طے کیے جا رہی ہے

سفر کو غٹاغٹ پیے جا رہی ہے

یہ چٹیل سے میداں، یہ ریتوں کے ٹیلے

ہیں جن پر بچھے دوب کے زرد تیلے

یہ کپاس کی کھیتیوں کی بہاریں

یہ ڈوڈوں کو چنتی ہوئی گلغداریں

گھنے بن کی پھلواڑیوں کی تگ و دَو

اور ان پر بگولوں کی زلفوں کے پرتو

یہ چھوٹی سی بستی، یہ ہل اور یہ ہالی

یہ صحرا میں آوارہ، بھیڑوں کے پالی

یہ حیران بچے، یہ خاموش مائیں

یہ گوبر کی چھینٹوں سے لتھڑی قبائیں

یہ نہروں میں بہتا ہوا مست پانی

یہ گنّوں کی رُت کی سنہری جوانی

یہ اینٹوں کا آوا، یہ اونٹوں کی ڈاریں

یہ کیکر کے پیڑوں کی لمبی قطاریں

درختوں کے سایوں سے آباد رستے

یہ آزاد راہی، یہ آزاد رستے

بدلتے چلے جا رہے ہیں نظارے

نئے سے نئے آ رہے ہیں نظارے

یہ صحرا جو نظروں کو برما رہا ہے

مرے ساتھ بھاگا چلا آ رہا ہے

نظر ایک منظر پہ جمتی نہیں ہے

یہ موج آ کے ساحل پہ تھمتی نہیں ہے

کنواں بن میں برباد سا اک پڑا ہے

کسی یادِ رنگیں میں ڈوبا ہوا ہے

بہت دور ادھرایک محمل دواں ہے

دلھن کوئی میکے کو شاید رواں ہے

کھجوروں کا جھرمٹ نظر آ رہا ہے

پتا رودِ راوی کا بتلا رہا ہے

وہ گاڑی کے پہیوں کی دلدوز آہٹ

وہ اڑتے ہوئے بگلوں کی پھڑپھڑاہٹ

یہ شامِ دلآرا، یہ پل کا نظارا

نگاہوں سے چھپتا ہوا وہ کنارا

وہ اٹھتا ہوا مرتعش ناتواں سا

بہت دور اک جھونپڑے سے دھواں سا

وہ ویراں سی مسجد، وہ ٹوٹی سی قبریں

وہ تارا شفق کے گلابی دھوئیں میں

نیا رنگ ہر دم دکھاتے ہیں منظر

نہیں ختم ہونے میں آتے ہیں منظر

ہر اک شے میں حرکت ہے، جولانیاں ہیں

ہر اک ذرّے میں وجد سامانیاں ہیں

کشش ہے، فسوں ہے، نہ جانے وہ کیا ہے

جو گاڑی کو کھینچے لیے جا رہا ہے

مرا خطۂ نور و رنگ آ گیا ہے

مرا سُکھ بھرا دیس جھنگ آ گیا ہے

مدّوکی جھنگ(12-12-1938

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s