روزِ رفتہ

مجید امجد نے جو کلام ’’شبِ رفتہ‘‘ میں کسی بھی وجہ سے شریک نہیں کیا تھا اسے اس حصے میں شامل کیا گیا ہے۔ ان میں وہ شاعری بھی ہے جو انھوں نے زمانہ طالب علمی میں کی تھی اور وہ کلام بھی ہے جو شبِ رفتہ میں شمولیت کا مستحق تو تھا مگر کئی وجود کی بنا پر شامل نہیں کیا گیا تھا۔ بعض جگہ یہ فیصلہ کرنا سہل نہیں کہ دونوں میں حد فاضل کس طرح قائم کی جائے اس لیے انھیں یکجا رکھا گیا ہے۔ گویا اس حصے میں ان کی ابتدائی اور زمانہ طالب علمی کی شاعری بھی شامل ہے اور شبِ رفتہ کے دور کی عمدہ شاعری بھی موجود ہے مگر چونکہ یہ سارا کلام ان کے ذہنی ارتقا کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے اس لیے کلیات میں اس کی شمولیت کا کافی جواز موجود ہے۔ اس حصے کو ’’باقیات‘‘ کا عنوان دے کر، کلیات کے آخر میں اس لیے جگہ نہیں دی گئی کہ مجید امجد ان میں سے کئی نظمیں اپنے مجموعہ کلام میں شامل کرنا چاہتے تھے۔ بعض نہایت اہم نظموں کو بالکل آخر میں لگا دیا جاتا تو ان تک رسائی مشکل ہو جاتی اور ان کے نظر انداز ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا

خواجہ محمد زکریا

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s