دھوپ چھاؤں

ناچتی ندیاں

جھومتے جھامتے پیڑ

اُجیالی دھوپ

ان سے بھی آگے، دور کہیں وہ دنیا

جس کا روپ

آنے والے مست دنوں کے ہونٹوں پر مسکان!

سمے سمے کا دھیان!

پھیکی پھیکی چاندنیاں

اور کجلی کجلی دھوپ

جن کی اڑتی راکھ میں جھلکے بیتے دنوں کا روپ

سناٹوں کی گھمرگھمر میں ڈوبتا ڈوبتا گیت

سمے سمے کی ریت

من کی یہ چنچل لہریں، ان کا کوئی نہ ٹھور مقام

دن گزرے تو صبح سویرا، رات کٹے تو شام

ساون ساون جلتے جھونکے

پلک پلک برسات

سمے سمے کی بات

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s