حسین

وہ شام صبحِ دوعالم تھی جب بہ سرحدِ شام

رکا تھا آ کے ترا قافلہ، ترے خیام!

متاعِ کون و مکاں، تجھ شہید کا سجدہ

زمینِ کرب و بلا کے نمازیوں کے امام

یہ نکتہ تو نے بتایا جہان والوں کو!

کہ ہے فرات کے ساحل سے سلسبیل اک گام

سوارِ مرکبِ دوشِ رسول — پورِ بتول

چراغِ محفلِ ایماں ترا مقدس نام!

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s