جھنگ

یہ خاکداں جو ہیولیٰ ہے ظلمتستاں کا

یہ سرزمیں جو ہے نقشہ جحیمِ سوزاں کا

یہ تنگ و تیرہ و بے رنگ و بو دیارِ مہیب

یہ طرفہ شہرِ عجیب و غریب و خفتہ نصیب

یہاں خیال ہے محرومِ اہتزازِ حیات

یہاں حیات ہے دوزخ کی ایک کالی رات

یہاں پہ دردِ دروں کی دوا نہیں ملتی

یہاں پہ قلب و نظر کو غذا نہیں ملتی

یہاں کلیدِ حقیقت نہیں کسی کے پاس

یہاں کے تحفے حسد اورعداوت اور افلاس

یہاں ارادہ و ہمت کی وسعتیں محدود

یہاں عروج و ترقی کے راستے مسدود

ہر اک بشر ہے یہاں تنگدستیوں کے قریب

بلندیوں سے بہت دور، پستیوں کے قریب

یہاں نہ روح کو راحت، یہاں نہ دل کو سرور

یہاں ہے طائرِ پر بستہ آدمی کا شعور

یہاں نہ پرورشِ شوقِ علم کے امکاں

یہاں نہ تربیتِ ذوقِ شعر کے ساماں

کبھی سے پاپ کی بھٹی میں سڑ رہا ہوں میں

ندیم، جھنگ سے اب تنگ آ گیا ہوں میں

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s