جو تم سن لو، تمہاری داستاں ہم

مجید امجد ۔ غزل نمبر 84
قریبِ دل، خروشِ صد جہاں ہم
جو تم سن لو، تمہاری داستاں ہم
کسی کو چاہنے کی چاہ میں گم
جیے بن کر نگاہِ تشنگاں ہم
ہر اک ٹھوکر کی زد میں لاکھ منزل
ہمیں ڈھونڈو، نصیبِ گمرہاں ہم
ہمیں سمجھو، نگاہِ ناز والو!
لبوں پر کانپتا حرفِ بیاں ہم
بجھی شمعوں کی اس نگری میں امجد
اُبھرتے آفتابوں کی کماں ہم
مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s