تیرے بغیر

زندگی بھولا ہوا سا خواب ہے تیرے بغیر

سازِ دل اک سازِ بےمضراب ہے تیرے بغیر

روح برمائی ہوئی بےتاب ہے تیرے بغیر

آنکھ خوں روتی ہوئی بےخواب ہے تیرے بغیر

ضبطِ غم دشوار ہے، آسان ہے، جو کچھ بھی ہو

ضبطِ غم کرنے کی کس کو تاب ہے تیرے بغیر

کاش ہو معلوم تجھ کو ساقیِ جامِ حیات

زندگی اک جرعۂ زہراب ہے تیرے بغیر

ملجگی پلکوں پہ رسوا، رائیگاں، رم آشنا

دل کا اک اک قطرۂ خونناب ہے تیرے بغیر

پھر مرے جذبات کا وہ پرسکوں بحرِ رواں

یم بہ یم گرداب در گرداب ہے تیرے بغیر

میری پاکیزہ جوانی صرفِ عصیاں ہو نہ جائے

جنسِ تقدیسِ وفا نایاب ہے تیرے بغیر

چاند کی کرنوں کے زینوں پر قدم دھرتی ہوئی

آ بھی جا سونی شبِ مہتاب ہے تیرے بغیر

آ کہ پھر اس آسماں کو حکم دیں سجدے کا ہم

دشمنِ جاں گردشِ دولاب ہے تیرے بغیر

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s