بیساکھ

بیساکھ آیا، آئی فسوں زائیوں کی رُت

آئی حسین کلیوں کی برنائیوں کی رُت!

گاؤں کے مرد و زن نے اٹھائیں درانتیاں

آئی سنہری کھیتیوں کی، لائیوں کی رُت

گندم کی فصل کاٹنے کے خوشگوار دن

محنت کشوں کی زمزمہ پیرائیوں کی رُت

خوشوں کے بکھرے بکھرے سے انباروں کا سماں

کھلواڑوں کے نگاروں کی رعنائیوں کی رُت

کھیتوں میں دھیمے قہقہوں کا موسمِ حسیں

رستوں پہ گونجتی ہوئی شہنائیوں کی رُت

دہقان کی اُمید کی بارآوری کا وقت

دنیا کے سوئے بخت کی انگڑائیوں کی رُت

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s