بھکارن

تیز قدموں کی آہٹوں سے بھری

رہگزر کے دورویہ سبزہ و کشت

چار سو ہنستی رنگتوں کے بہشت

صد خیابانِ گل، کہ جن کی طرف

دیکھتا ہی نہیں کوئی راہی!

سرخ پھولوں سے اک لدی ٹہنی

آن کر بچھ گئی ہے رستے پر

کنکروں پر جبیں رگڑتی ہے

راہگیروں کے پاؤں پڑتی ہے

’’میں کہاں روز روز آتی ہوں

ہے مرے کوچ کی گھڑی نزدیک

جانے والو، بس اک نگاہ کی بھیک‘‘

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s