ایک خیال

تمہارے ہونٹ وہ گھلتے سے ریزہ ہائے نبات

مرے لبوں سے ملے، جھکتی جھکتی پلکوں کے سات

تو جھونکے جھونکے میں لہرا گئی شمیمِ حیات

کسے خبر، کہ پھسلتا ہوا وہ جسمِ حسیں

مری بھنچی ہوئی باہوں کی دولتِ رنگیں

اب اس کی خاک بھی خاکِ لحد میں ہے کہ نہیں

تمہاری گردِ کفن اور ہجومِ کرمکِ گور

مصاحبانِ اجل، گنگ و پابریدہ و کور

بس ایک میری نوا میں تمہاری روح کا شور

میں زندہ ہوں تو مری زندگی تمہاری حیات

وگرنہ یوں تو ہے کس کو دوام، کس کو ثبات

نفس نفس، سرِ ظلمات، پرتوِ ظلمات

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s