اک تو کہ ہے طلسمِ شب و روز کا شکار

مجید امجد ۔ غزل نمبر 73
اک وہ کہ جن کی فکر ہے ارض و سما شکار
اک تو کہ ہے طلسمِ شب و روز کا شکار
لاؤ کہیں سے کوئی ضمیرِ فرشتہ صید
ڈھونڈو کہیں سے کوئی نگاہِ خدا شکار
اس انجمن میں دیکھیے اہلِ وفا کے ظرف
کوئی اداشناس ہے کوئی اداشکار
آتا ہے خود ہی چوٹ پہ صیدِ سبک مراد
ہوتا ہے ورنہ کون ز کارِ قضا شکار
ظلِ ہما کی اوٹ میں چلّے پہ تیر رکھ
آساں نہیں نگاہ کے نخچیر کا شکار
جولاں گہِ حیات انھی کی ہے، دوستو
فتراک میں ہے جن کے دلِ مدعا شکار
مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google photo

آپ اپنے Google اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s