ارتھی

تو نے کیا دیکھا؟ تو نے کیا سمجھا؟

جب تری زندگی نواز آنکھیں

گوشۂ بام کی بلندی سے

فرطِ حیرت سے، دردمندی سے

جھک پڑیں اس ہجومِگریاں پر

جو گزرتا تھا تیرے کوچے سے

ایک ارتھی اٹھائے شانوں پر

چند سہمے سے پھول اور اک چادر

زندگی کی بہار کا انجام؟

بحرِ ہستی کی آخری منجدھار؟

تیرے حسن اور مرے جنوں کا مآل؟

اپنا احساس تھا کہ میرا خیال؟

میں نے دیکھا تو سوگوار سی تھی

تو نے کیا سوچا؟ تو نے کیا سمجھا؟

مجید امجد

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s